ہم مے کشوں کو ڈر نہیں مرنے کا محتسب

Toggle stanza 1
ہم مے کشوں کو ڈر نہیں مرنے کا محتسب
1

ہم مے کشوں کو ڈر نہیں مرنے کا محتسب

فردوس میں بھی سنتے ہیں نہر شراب ہے

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…