بہ زیر قصر گردوں کیا کوئی آرام سے سوئے

Toggle stanza 1
بہ زیر قصر گردوں کیا کوئی آرام سے سوئے
1

بہ زیر قصر گردوں کیا کوئی آرام سے سوئے

یہ چھت ایسی پرانی ہے کہ شبنم سے ٹپکتی ہے

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…