سب ہمارے لیے زنجیر لیے پھرتے ہیں
Toggle stanza 1سب ہمارے لیے زنجیر لیے پھرتے ہیں
سب ہمارے لیے زنجیر لیے پھرتے ہیں
ہم سر زلف گرہ گیر لیے پھرتے ہیں
کون تھا صید وفادار کہ اب تک صیاد
بال و پر اس کے ترے تیر لیے پھرتے ہیں
تو جو آئے تو شب تار نہیں یاں ہر سو
مشعلیں نالۂ شب گیر لیے پھرتے ہیں
تیری صورت سے کسی کی نہیں ملتی صورت
ہم جہاں میں تری تصویر لیے پھرتے ہیں
معتکف گرچہ بظاہر ہوں تصور میں مگر
کو بہ کو ساتھ یہ بے پیر لیے پھرتے ہیں
رنگ خوبان جہاں دیکھتے ہی زرد کیا
آپ زور آنکھوں میں اکسیر لیے پھرتے ہیں
جو ہے مرتا ہے بھلا کس کو عداوت ہوگی
آپ کیوں ہاتھ میں شمشیر لیے پھرتے ہیں
سرکشی شمع کی لگتی نہیں گر ان کو بری
لوگ کیوں بزم میں گل گیر لیے پھرتے ہیں
تا گنہ گاری میں ہم کو کوئی مطعوں نہ کرے
ہاتھ میں نامۂ تقدیر لیے پھرتے ہیں
قصر تن کو یوں ہی بنوا یہ بگولے ناسخؔ
خوب ہی نقشۂ تعمیر لیے پھرتے ہیں
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

