سب کی سب کیا ہیں شب قدر ہماری راتیں
Toggle stanza 1سب کی سب کیا ہیں شب قدر ہماری راتیں
سب کی سب کیا ہیں شب قدر ہماری راتیں
کٹتی ہیں آنکھوں ہی میں ہجر کی ساری راتیں
ہائے کیا پیار سے سوتے تھے لپٹ کر اے جان
یاد ہر دم مجھے آتی ہیں وہ پیاری راتیں
دونوں زلفوں میں ہیں خورشید سے تاباں عارض
روز روشن کے برابر ہیں تمہاری راتیں
جو گھڑی ہے نظر آتی ہے مجھے ایک پہاڑ
ہیں غضب فرقت محبوب کی بھاری راتیں
ہجر میں صبح سے تا شام بجائے شبنم
میری آنکھوں سے لہو رکھتی ہیں جاری راتیں
سن پڑے رہتے ہیں بے یار اندھیرے میں ہم
ہیں شب گور کے مانند ہماری راتیں
شب تاریک جدائی میں یہ چلاتا ہوں
دق بہت کرتی ہیں یا حضرت باری راتیں
تیری زلفوں کے لیے شانہ بکف ہے ہر دن
اور کرتی ہیں تری آئینہ داری راتیں
فصل گل میں وہ گل تر نہیں گل کر دے چراغ
کہ سیہ چاہئیں اے باد بہاری راتیں
مرغ زرین فلک پر ہے یقین خفاش
کس قدر میرے دنوں میں ہوئیں ساری راتیں
دن کے بدلے بھی یہی آتی ہیں غم خواری کو
مجھ سے رکھتی ہیں بہت ہجر میں یاری راتیں
دن تو ناسخؔ کے بہ ہر حال گزر جاتے ہیں
پر جدائی میں بہت لاتی ہیں خواری باتیں
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

