چہار شنبہ آخرِ ماہِ صفر
Toggle stanza 1ہے چار شنبہ آخرِ ماہِ صَفَر چلو
11
ہے چار شنبہ آخرِ ماہِ صَفَر چلو
رکھ دیں چمن میں بھر کے مئے مُشک بُو کی ناند
22
جو آئے، جام بھر کے پیے، اور ہو کے مست
سبزے کو رَوندتا پھرے، پُھولوں کو جائے پھاند
33
غالبؔ یہ کیا بیاں ہے، بجُز مدحِ پادشاہ
بھاتی نہیں ہے اب مجھے کوئی نوشتِ خواند
44
بَٹتے ہیں سونے رُوپے کے چھلے حُضُور میں
ہے جن کے آگے سیم و زر و مہر و ماہ ماند
55
یوں سمجھیے کہ بیچ سے خالی کیے ہوئے
لاکھوں ہی آفتاب ہیں اور بے شمار چاند
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.
Loading…

