چہار شنبہ آخرِ ماہِ صفر

Toggle stanza 1
ہے چار شنبہ آخرِ ماہِ صَفَر چلو
1

ہے چار شنبہ آخرِ ماہِ صَفَر چلو

رکھ دیں چمن میں بھر کے مئے مُشک بُو کی ناند

2

جو آئے، جام بھر کے پیے، اور ہو کے مست

سبزے کو رَوندتا پھرے، پُھولوں کو جائے پھاند

3

غالبؔ یہ کیا بیاں ہے، بجُز مدحِ پادشاہ

بھاتی نہیں ہے اب مجھے کوئی نوشتِ خواند

4

بَٹتے ہیں سونے رُوپے کے چھلے حُضُور میں

ہے جن کے آگے سیم و زر و مہر و ماہ ماند

5

یوں سمجھیے کہ بیچ سے خالی کیے ہوئے

لاکھوں ہی آفتاب ہیں اور بے شمار چاند

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…