Qit‘at
اے شہنشاہِ فلک منظرِ بے مثل و نظیر
ہے جو صاحب کے کفِ دست پہ یہ چکنی ڈلی
نہ پُوچھ اِس کی حقیقت، حُضُورِ والا نے
ہے چار شنبہ آخرِ ماہِ صَفَر چلو
افطارِ صوم کی جسے کچھ دستگاہ ہو
اٹھا اک دن بگولا سا جو کچھ میں جوشِ وحشت میں
خوشی تو ہے آنے کی برسات کے
سیہ گلیم ہوں لازم ہے میرا نام نہ لے
Poetic form
Metre