نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا

Toggle stanza 1
نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
1

نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا

ڈُبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا

2

ہُوا جب غم سے یوں بے حِس تو غم کیا سر کے کٹنے کا

نہ ہوتا گر جدا تن سے تو زانو پر دھرا ہوتا

3

ہوئی مدت کہ غالبؔ مر گیا، پر یاد آتا ہے

وہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…