میں اور بزمِ مے سے یوں تشنہ کام آؤں

Toggle stanza 1
میں اور بزمِ مے سے یوں تشنہ کام آؤں
1

میں اور بزمِ مے سے یوں تشنہ کام آؤں

گر میں نے کی تھی توبہ، ساقی کو کیا ہوا تھا؟

2

ہے ایک تیر جس میں دونوں چھِدے پڑے ہیں

وہ دن گئے کہ اپنا دل سے جگر جدا تھا

3

درماندگی میں غالبؔ کچھ بن پڑے تو جانوں

جب رشتہ بے گرہ تھا، ناخن گرہ کشا تھا

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…