کیوں کر اس بت سے رکھوں جان عزیز!

Toggle stanza 1
کیوں کر اس بت سے رکھوں جان عزیز!
1

کیوں کر اس بت سے رکھوں جان عزیز!

کیا نہیں ہے مجھے ایمان عزیز!

2

دل سے نکلا۔ پہ نہ نکلا دل سے

ہے ترے تیر کا پیکان عزیز

3

تاب لاتے ہی بنے گی غالبؔ

واقعہ سخت ہے اور جان عزیز

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…