عالم جہاں بعرضِ بساطِ وجود تھا

Toggle stanza 1
عالم جہاں بعرضِ بساطِ وجود تھا
1

عالم جہاں بعرضِ بساطِ وجود تھا

جوں صبح، چاکِ جَیب مجھے تار و پود تھا

2

جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار

صحرا، مگر، بہ تنگیِ چشمِ حُسود تھا

3

بازی خورِ فریب ہے اہلِ نظر کا ذوق

ہنگامہ گرم حیرتِ بود و نمود تھا

4

عالم طلسمِ شہرِ خموشاں ہے سر بسر

یا میں غریبِ کشورِ گفت و شنود تھا

5

آشفتگی نے نقشِ سویدا کیا درست

ظاہر ہوا کہ داغ کا سرمایہ دود تھا

6

تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ

جب آنکھ کھل گئی نہ زیاں تھا نہ سود تھا

7

لیتا ہوں مکتبِ غمِ دل میں سبق ہنوز

لیکن یہی کہ رفت گیا اور بود تھا

8

ڈھانپا کفن نے داغِ عیوبِ برہنگی

میں، ورنہ ہر لباس میں ننگِ وجود تھا

9

تیشے بغیر مر نہ سکا کوہکن اسدؔ

سرگشتۂ خمارِ رسوم و قیود تھا

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…