پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا

Toggle stanza 1
پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا
1

پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا

دل، جگر تشنۂ فریاد آیا

2

دم لیا تھا نہ قیامت نے ہنوز

پھر ترا وقتِ سفر یاد آیا

3

سادگی ہائے تمنا، یعنی

پھر وہ نیرنگِ نظر یاد آیا

4

عذرِ واماندگی، اے حسرتِ دل!

نالہ کرتا تھا، جگر یاد آیا

5

زندگی یوں بھی گزر ہی جاتی

کیوں ترا راہ گزر یاد آیا

6

کیا ہی رضواں سے لڑائی ہو گی

گھر ترا خلد میں گر یاد آیا

7

آہ وہ جرأتِ فریاد کہاں

دل سے تنگ آ کے جگر یاد آیا

8

پھر تیرے کوچے کو جاتا ہے خیال

دلِ گم گشتہ، مگر، یاد آیا

9

کوئی ویرانی سی ویرانی ہے

دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا

10

میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسدؔ

سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…