ہوس کو ہے نشاطِ کار کیا کیا
Poet: Mirza Ghalib
Toggle stanza 1ہوس کو ہے نشاطِ کار کیا کیا
ہوس کو ہے نشاطِ کار کیا کیا
نہ ہو مرنا تو جینے کا مزا کیا
تجاہل پیشگی سے مدعا کیا
کہاں تک اے سراپا ناز کیا کیا؟
نوازش ہائے بے جا دیکھتا ہوں
شکایت ہائے رنگیں کا گلا کیا
نگاہِ بے محابا چاہتا ہوں
تغافل ہائے تمکیں آزما کیا
فروغِ شعلۂ خس یک نفَس ہے
ہوس کو پاسِ ناموسِ وفا کیا
نفس موجِ محیطِ بیخودی ہے
تغافل ہائے ساقی کا گلا کیا
دماغِ عطر پیراہن نہیں ہے
غمِ آوارگی ہائے صبا کیا
دلِ ہر قطرہ ہے سازِ "انا البحر"
ہم اس کے ہیں، ہمارا پوچھنا کیا
محابا کیا ہے، مَیں ضامن، اِدھر دیکھ
شہیدانِ نگہ کا خوں بہا کیا
سن اے غارت گرِ جنسِ وفا، سن
شکستِ قیمتِ دل کی صدا کیا
کیا کس نے جگر داری کا دعویٰ؟
شکیبِ خاطرِ عاشق بھلا کیا
یہ قاتل وعدۂ صبر آزما کیوں؟
یہ کافر فتنۂ طاقت ربا کیا؟
بلائے جاں ہے غالبؔ اس کی ہر بات
عبارت کیا، اشارت کیا، ادا کیا!
Zameen
Poems with the Same Metre and Rhyme
سنو گے مجھ سے میرا ماجرا کیا
کہا کرتے ہیں افسانوں میں کیا کیا
Ismail MeeruthiGhazaliyatسنو گے مجھ سے میرا ماجرا کیا
کروں کیا غم کہ دنیا سے ملا کیا
کسی کو کیا ملا دنیا میں تھا کیا
Akbar AllahabadiGhazaliyatکروں کیا غم کہ دنیا سے ملا کیا
جفا و جور کا اس سے گلہ کیا
جو پوچھے مہربانی کیا، وفا کیا
Mustafa Khan SheftaGhazaliyatجفا و جور کا اس سے گلہ کیا
کہا کل میں نے اے سرمایۂ ناز
تلون سے ہے تم کو مدعا کیا
Mustafa Khan SheftaNazmsکہا کل میں نے اے سرمایۂ ناز
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

