کس کا جنونِ دید تمنّا شکار تھا؟

Toggle stanza 1
کس کا جنونِ دید تمنّا شکار تھا؟
1

کس کا جنونِ دید تمنّا شکار تھا؟

آئینہ خانہ وادیِ جوہر غبار تھا

2

کس کا خیال آئینۂ انتظار تھا

ہر برگِ گل کے پردے میں دل بے قرار تھا

3

ایک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب

خونِ جگر ودیعتِ مژگانِ یار تھا

4

اب میں ہوں اور ماتمِ یک شہرِ آرزو

توڑا جو تو نے آئینہ، تمثال دار تھا

5

گلیوں میں میری نعش کو کھینچے پھرو، کہ میں

جاں دادۂ ہوائے سرِ رہگزار تھا

6

موجِ سرابِ دشتِ وفا کا نہ پوچھ حال

ہر ذرہ، مثلِ جوہرِ تیغ، آب دار تھا

7

کم جانتے تھے ہم بھی غمِ عشق کو، پر اب

دیکھا تو کم ہوئے پہ غمِ روزگار تھا

Zameen

Poems with the Same Metre and Rhyme

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…