بس کہ فعّالِ ما یرید ہے آج
Poet: Mirza Ghalib
Toggle stanza 1بس کہ فعّالِ ما یرید ہے آج
11
بس کہ فعّالِ ما یرید ہے آج
ہر سلحشور انگلستاں کا
22
گھر سے بازار میں نکلتے ہوئے
زہرہ ہوتا ہے آب انساں کا
33
چوک جس کو کہیں وہ مقتل ہے
گھر بنا ہے نمونہ زنداں کا
44
شہرِ دہلی کا ذرّہ ذرّہ خاک
تشنۂ خوں ہے ہر مسلماں کا
55
کوئی واں سے نہ آ سکے یاں تک
آدمی واں نہ جا سکے یاں کا
66
میں نے مانا کہ مل گئے پھر کیا
وہی رونا تن و دل و جاں کا
77
گاہ جل کر کیا کیے شکوہ
سوزشِ داغ ہائے پنہاں کا
88
گاہ رو کر کہا کیے باہم
ماجرا دیدہ ہائے گریاں کا
99
اس طرح کے وصال سے یا رب
کیا مٹے داغ دل سے ہجراں کا
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.
Loading…

