بس کہ فعّالِ ما یرید ہے آج

Toggle stanza 1
بس کہ فعّالِ ما یرید ہے آج
1

بس کہ فعّالِ ما یرید ہے آج

ہر سلحشور انگلستاں کا

2

گھر سے بازار میں نکلتے ہوئے

زہرہ ہوتا ہے آب انساں کا

3

چوک جس کو کہیں وہ مقتل ہے

گھر بنا ہے نمونہ زنداں کا

4

شہرِ دہلی کا ذرّہ ذرّہ خاک

تشنۂ خوں ہے ہر مسلماں کا

5

کوئی واں سے نہ آ سکے یاں تک

آدمی واں نہ جا سکے یاں کا

6

میں نے مانا کہ مل گئے پھر کیا

وہی رونا تن و دل و جاں کا

7

گاہ جل کر کیا کیے شکوہ

سوزشِ داغ ہائے پنہاں کا

8

گاہ رو کر کہا کیے باہم

ماجرا دیدہ ہائے گریاں کا

9

اس طرح کے وصال سے یا رب

کیا مٹے داغ دل سے ہجراں کا

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…