دوست غمخواری میں میری سعی فرمائیں گے کیا

Toggle stanza 1
دوست غمخواری میں میری سعی فرمائیں گے کیا
1

دوست غمخواری میں میری سعی فرمائیں گے کیا

زخم کے بھرنے تلک ناخن نہ بڑھ جائیں گے کیا

2

بے نیازی حد سے گزری بندہ پرور، کب تلک

ہم کہیں گے حالِ دل، اور آپ فرمائیں گے 'کیا'؟

3

حضرتِ ناصح گر آئیں، دیدہ و دل فرشِ راہ

کوئی مجھ کو یہ تو سمجھا دو کہ سمجھائیں گے کیا؟

4

آج واں تیغ و کفن باندھے ہوئے جاتا ہوں میں

عذر میرے قتل کرنے میں وہ اب لائیں گے کیا

5

گر کیا ناصح نے ہم کو قید، اچھا یوں سہی

یہ جنونِ عشق کے انداز چھٹ جائیں گے کیا

6

خانہ زادِ زلف ہیں، زنجیر سے بھاگیں گے کیوں

ہیں گرفتارِ وفا، زنداں سے گھبرائیں گے کیا

7

ہے اب اس معمورے میں قحطِ غمِ الفت اسدؔ

ہم نے یہ مانا کہ دلّی میں رہیں ، کھائیں گے کیا؟

Zameen

Poems with the Same Metre and Rhyme

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…