بھری ہے دل میں جو حسرت کہوں تو کس سے کہوں

Toggle stanza 1
بھری ہے دل میں جو حسرت کہوں تو کس سے کہوں
1

بھری ہے دل میں جو حسرت کہوں تو کس سے کہوں

سنے ہے کون مصیبت کہوں تو کس سے کہوں

2

جو تو ہو صاف تو کچھ میں بھی صاف تجھ سے کہوں

ترے ہے دل میں کدورت کہوں تو کس سے کہوں

3

نہ کوہ کن ہے نہ مجنوں کہ تھے مرے ہمدرد

میں اپنا درد محبت کہوں تو کس سے کہوں

4

دل اس کو آپ دیا آپ ہی پشیماں ہوں

کہ سچ ہے اپنی ندامت کہوں تو کس سے کہوں

5

کہوں میں جس سے اسے ہووے سنتے ہی وحشت

پھر اپنا قصۂ وحشت کہوں تو کس سے کہوں

6

رہا ہے تو ہی تو غم خوار اے دل غمگیں

ترے سوا غم فرقت کہوں تو کس سے کہوں

7

جو دوست ہو تو کہوں تجھ سے دوستی کی بات

تجھے تو مجھ سے عداوت کہوں تو کس سے کہوں

8

نہ مجھ کو کہنے کی طاقت کہوں تو کیا احوال

نہ اس کو سننے کی فرصت کہوں تو کس سے کہوں

9

کسی کو دیکھتا اتنا نہیں حقیقت میں

ظفرؔ میں اپنی حقیقت کہوں تو کس سے کہوں

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…