پان کھا کر سرمہ کی تحریر پھر کھینچی تو کیا

Toggle stanza 1
پان کھا کر سرمہ کی تحریر پھر کھینچی تو کیا
1

پان کھا کر سرمہ کی تحریر پھر کھینچی تو کیا

جب مرا خوں ہو چکا شمشیر پھر کھینچی تو کیا

2

اے مہوس جب کہ زر تیرے نصیبوں میں نہیں

تو نے محنت بھی پئے اکسیر پھر کھینچی تو کیا

3

گر کھنچے سینہ سے ناوک روح تو قالب سے کھینچ

اے اجل جب کھنچ گیا وہ تیر پھر کھینچی تو کیا

4

کھینچتا تھا پاؤں میرا پہلے ہی زنجیر سے

اے جنوں تو نے مری زنجیر پھر کھینچی تو کیا

5

دار ہی پر اس نے کھینچا جب سر بازار عشق

لاش بھی میری پئے تشہیر پھر کھینچی تو کیا

6

کھینچ اب نالہ کوئی ایسا کہ ہو اس کو اثر

تو نے اے دل آہ پر تاثیر پھر کھینچی تو کیا

7

چاہیئے اس کا تصور ہی سے نقشہ کھینچنا

دیکھ کر تصویر کو تصویر پھر کھینچی تو کیا

8

کھینچ لے اول ہی سے دل کی عنان اختیار

تو نے گر اے عاشق دلگیر پھر کھینچی تو کیا

9

کیا ہوا آگے اٹھائے گر ظفرؔ احسان عقل

اور اگر اب منت تدبیر پھر کھینچی تو کیا

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…