کر کے بیمار دی دوا تو نے

Toggle stanza 1
کر کے بیمار دی دوا تو نے
1

کر کے بیمار دی دوا تو نے

جان سے پہلے دل لیا تو نے

2

رہرو تشنہ لب نہ گھبرانا

اب لیا چشمۂ بقا تو نے

3

شیخ جب دل ہی دیر میں نہ لگا

آ کے مسجد سے کیا لیا تو نے

4

دور ہو اے دل مآل اندیش

کھو دیا عمر کا مزا تو نے

5

ایک بیگانہ وار کر کے نگاہ

کیا کیا چشم آشنا تو نے

6

دل و دیں کھو کے آئے تھے سوئے دیر

یاں بھی سب کچھ دیا خدا تو نے

7

خوش ہے امید خلد پر حالیؔ

کوئی پوچھے کہ کیا کیا تو نے

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…