کر کے بیمار دی دوا تو نے
Toggle stanza 1کر کے بیمار دی دوا تو نے
11
کر کے بیمار دی دوا تو نے
جان سے پہلے دل لیا تو نے
22
رہرو تشنہ لب نہ گھبرانا
اب لیا چشمۂ بقا تو نے
33
شیخ جب دل ہی دیر میں نہ لگا
آ کے مسجد سے کیا لیا تو نے
44
دور ہو اے دل مآل اندیش
کھو دیا عمر کا مزا تو نے
55
ایک بیگانہ وار کر کے نگاہ
کیا کیا چشم آشنا تو نے
66
دل و دیں کھو کے آئے تھے سوئے دیر
یاں بھی سب کچھ دیا خدا تو نے
77
خوش ہے امید خلد پر حالیؔ
کوئی پوچھے کہ کیا کیا تو نے
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.
Loading…

