حشر تک یاں دل شکیبا چاہئے
Toggle stanza 1حشر تک یاں دل شکیبا چاہئے
11
حشر تک یاں دل شکیبا چاہئے
کب ملیں دلبر سے دیکھا چاہئے
22
ہے تجلی بھی نقاب روئے یار
اس کو کن آنکھوں سے دیکھا چاہئے
33
غیرممکن ہے نہ ہو تاثیر غم
حال دل پھر اس کو لکھا چاہئے
44
ہے دل افگاروں کی دل داری ضرور
گر نہیں الفت مدارا چاہئے
55
ہے کچھ اک باقی خلش امید کی
یہ بھی مٹ جائے تو پھر کیا چاہئے
66
دوستوں کی بھی نہ ہو پروا جسے
بے نیازی اس کی دیکھا چاہئے
77
بھا گئے ہیں آپ کے انداز و ناز
کیجئے اغماض جتنا چاہئے
88
شیخ ہے ان کی نگہ جادو بھری
صحبت رنداں سے بچنا چاہئے
99
لگ گئی چپ حالیؔ رنجور کو
حال اس کا کس سے پوچھا چاہئے
Zameen
Poems with the Same Metre and Rhyme
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.
Loading…

