پنجاب کے دہقان سے

Toggle stanza 1
بتا کیا تری زندگی کا ہے راز
1

بتا کیا تری زندگی کا ہے راز

ہزاروں برس سے ہے تُو خاک باز

2

اسی خاک میں دب گئی تیری آگ

سحَر کی اذاں ہوگئی، اب تو جاگ!

3

زمیں میں ہے گو خاکیوں کی برات

نہیں اس اندھیرے میں آبِ حیات

4

زمانے میں جھُوٹا ہے اُس کا نِگیں

جو اپنی خودی کو پرکھتا نہیں

5

بُتانِ شعوب و قبائل کو توڑ

رسُومِ کُہَن کے سلاسل کو توڑ

6

یہی دِین محکم، یہی فتحِ باب

کہ دنیا میں توحید ہو بے حجاب

7

بخاکِ بدن دانۂ دل فشاں

کہ ایں دانہ دارد ز حاصِل نشاں

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…