پنجاب کے دہقان سے
Toggle stanza 1بتا کیا تری زندگی کا ہے راز
11
بتا کیا تری زندگی کا ہے راز
ہزاروں برس سے ہے تُو خاک باز
22
اسی خاک میں دب گئی تیری آگ
سحَر کی اذاں ہوگئی، اب تو جاگ!
33
زمیں میں ہے گو خاکیوں کی برات
نہیں اس اندھیرے میں آبِ حیات
44
زمانے میں جھُوٹا ہے اُس کا نِگیں
جو اپنی خودی کو پرکھتا نہیں
55
بُتانِ شعوب و قبائل کو توڑ
رسُومِ کُہَن کے سلاسل کو توڑ
66
یہی دِین محکم، یہی فتحِ باب
کہ دنیا میں توحید ہو بے حجاب
77
بخاکِ بدن دانۂ دل فشاں
کہ ایں دانہ دارد ز حاصِل نشاں
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.
Loading…

