لالۂ صحرا

Toggle stanza 1
یہ گُنبدِ مِینائی، یہ عالمِ تنہائی
1

یہ گُنبدِ مِینائی، یہ عالمِ تنہائی

مجھ کو تو ڈراتی ہے اس دشت کی پہنائی

2

بھٹکا ہُوا راہی مَیں، بھٹکا ہُوا راہی تُو

منزل ہے کہاں تیری اے لالۂ صحرائی!

3

خالی ہے کلیموں سے یہ کوہ و کمر ورنہ

تُو شعلۂ سینائی، مَیں شعلۂ سینائی!

4

تُو شاخ سے کیوں پھُوٹا، مَیں شاخ سے کیوں ٹُوٹا

اک جذبۂ پیدائی، اک لذّتِ یکتائی!

5

غوّاصِ محبّت کا اللہ نِگہباں ہو

ہر قطرۂ دریا میں دریا کی ہے گہرائی

6

اُس موج کے ماتم میں روتی ہے بھَنْور کی آنکھ

دریا سے اُٹھی لیکن ساحل سے نہ ٹکرائی

7

ہے گرمیِ آدم سے ہنگامۂ عالم گرم

سُورج بھی تماشائی، تارے بھی تماشائی

8

اے بادِ بیابانی! مجھ کو بھی عنایت ہو

خاموشی و دل سوزی، سرمستی و رعنائی!

Zameen

Poems with the Same Metre and Rhyme

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…