اس قوم کو یک دلی کی رغبت ہی نہیں
Toggle stanza 1اس قوم کو یک دلی کی رغبت ہی نہیں
11
اس قوم کو یک دلی کی رغبت ہی نہیں
جو ایک کرے ادھر طبیعت ہی نہیں
22
اکبر کہتا ہے میل رکھو باہم
وہ کہتے ہیں میل کی ضرورت ہی نہیں
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.
Loading…

