کہتا ہوں تو تہمت حسد ہوتی ہے
Toggle stanza 1کہتا ہوں تو تہمت حسد ہوتی ہے
11
کہتا ہوں تو تہمت حسد ہوتی ہے
خاموشی میں دل کو سخت کد ہوتی ہے
22
دنیا طلبی ضرور ہے انساں کو
لیکن ہر شے کی ایک حد ہوتی ہے
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.
Loading…

