کہتا ہوں تو تہمت حسد ہوتی ہے

Poet: Akbar Allahabadi

Metre: رباعی

Rhyme: د

Radif: ہوتی ہے

Poetic form: Ruba‘i

Toggle stanza 1
کہتا ہوں تو تہمت حسد ہوتی ہے
1

کہتا ہوں تو تہمت حسد ہوتی ہے

خاموشی میں دل کو سخت کد ہوتی ہے

2

دنیا طلبی ضرور ہے انساں کو

لیکن ہر شے کی ایک حد ہوتی ہے

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…