جان ہی لینے کی حکمت میں ترقی دیکھی

Toggle stanza 1
جان ہی لینے کی حکمت میں ترقی دیکھی
1

جان ہی لینے کی حکمت میں ترقی دیکھی

موت کا روکنے والا کوئی پیدا نہ ہوا

2

کوئی حسرت مرے دل میں کبھی آئی ہی نہیں

تھا ہی ایسا کہ یہ مقبول تمنا نہ ہوا

3

اس کی بیٹی نے اٹھا رکھی ہے دنیا سر پر

خیریت گزری کہ انگور کے بیٹا نہ ہوا

4

دل فریبی مری دنیا نے تو بے حد چاہی

میری ہی ہمت و غیرت کا تقاضہ نہ ہوا

Zameen

Poems with the Same Metre and Rhyme

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…