جان ہی لینے کی حکمت میں ترقی دیکھی
Toggle stanza 1جان ہی لینے کی حکمت میں ترقی دیکھی
11
جان ہی لینے کی حکمت میں ترقی دیکھی
موت کا روکنے والا کوئی پیدا نہ ہوا
22
کوئی حسرت مرے دل میں کبھی آئی ہی نہیں
تھا ہی ایسا کہ یہ مقبول تمنا نہ ہوا
33
اس کی بیٹی نے اٹھا رکھی ہے دنیا سر پر
خیریت گزری کہ انگور کے بیٹا نہ ہوا
44
دل فریبی مری دنیا نے تو بے حد چاہی
میری ہی ہمت و غیرت کا تقاضہ نہ ہوا
Zameen
Poems with the Same Metre and Rhyme
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.
Loading…

