حاکم دل بن گئی ہیں یہ تھیٹر والیاں
Poet: Akbar Allahabadi
Toggle stanza 1حاکم دل بن گئی ہیں یہ تھیٹر والیاں
11
حاکم دل بن گئی ہیں یہ تھیٹر والیاں
میں لگاؤں گا گل داغ جگر کی ڈالیاں
22
ضبط کے جامے کے بخیہ ٹوٹتے ہیں دوستو
ہائے یہ بیلیں کشیدے اور ایسی جالیاں
33
حور مستقبل پری ماضی مگر یہ حال ہیں
دی و فردا کیا کروں پاؤں جو یہ خوش حالیاں
44
آسماں سے کیا غرض جب ہے زمیں پر یہ چمک
ماہ و انجم سے ہیں بڑھ کر ان کے بندے بالیاں
55
فول وہ کہتی ہیں مجھ کو میں انہیں سمجھا ہوں پھول
ہیں گل رنگیں سے بہتر ان گلوں کی گالیاں
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.
Loading…

