حاکم دل بن گئی ہیں یہ تھیٹر والیاں

Toggle stanza 1
حاکم دل بن گئی ہیں یہ تھیٹر والیاں
1

حاکم دل بن گئی ہیں یہ تھیٹر والیاں

میں لگاؤں گا گل داغ جگر کی ڈالیاں

2

ضبط کے جامے کے بخیہ ٹوٹتے ہیں دوستو

ہائے یہ بیلیں کشیدے اور ایسی جالیاں

3

حور مستقبل پری ماضی مگر یہ حال ہیں

دی و فردا کیا کروں پاؤں جو یہ خوش حالیاں

4

آسماں سے کیا غرض جب ہے زمیں پر یہ چمک

ماہ و انجم سے ہیں بڑھ کر ان کے بندے بالیاں

5

فول وہ کہتی ہیں مجھ کو میں انہیں سمجھا ہوں پھول

ہیں گل رنگیں سے بہتر ان گلوں کی گالیاں

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…