جہاں میں حال مرا اس قدر زبون ہوا

Toggle stanza 1
جہاں میں حال مرا اس قدر زبون ہوا
1

جہاں میں حال مرا اس قدر زبون ہوا

کہ مجھ کو دیکھ کے بسمل کو بھی سکون ہوا

2

غریب دل نے بہت آرزوئیں پیدا کیں

مگر نصیب کا لکھا کہ سب کا خون ہوا

3

وہ اپنے حسن سے واقف میں اپنی عقل سے سیر

انہوں نے ہوش سنبھالا مجھے جنون ہوا

4

امید چشم مروت کہاں رہی باقی

ذریعہ باتوں کا جب صرف ٹیلیفون ہوا

5

نگاہ گرم کرسمس میں بھی رہی ہم پر

ہمارے حق میں دسمبر بھی ماہ جون ہوا

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…