باغ دنیا میں نظر غم ناک ہو کر رہ گئی

Toggle stanza 1
باغ دنیا میں نظر غم ناک ہو کر رہ گئی
1

باغ دنیا میں نظر غم ناک ہو کر رہ گئی

رنگ بدلے خاک نے پھر خاک ہو کر رہ گئی

2

داخل اسکول ہو دختر تو کچھ حاصل کرے

کیا نتیجہ صرف اگر بے باک ہو کر رہ گئی

3

وہ ترقی ہے کہ جو کر دے شگفتہ مثل گل

وہ کلی کیا جو گریباں چاک ہو کر رہ گئی

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…