باغ دنیا میں نظر غم ناک ہو کر رہ گئی
Poet: Akbar Allahabadi
Toggle stanza 1باغ دنیا میں نظر غم ناک ہو کر رہ گئی
11
باغ دنیا میں نظر غم ناک ہو کر رہ گئی
رنگ بدلے خاک نے پھر خاک ہو کر رہ گئی
22
داخل اسکول ہو دختر تو کچھ حاصل کرے
کیا نتیجہ صرف اگر بے باک ہو کر رہ گئی
33
وہ ترقی ہے کہ جو کر دے شگفتہ مثل گل
وہ کلی کیا جو گریباں چاک ہو کر رہ گئی
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.
Loading…

