ان دنوں یار کے کچھ ذہن نشیں اور بھی ہے
Toggle stanza 1ان دنوں یار کے کچھ ذہن نشیں اور بھی ہے
11
ان دنوں یار کے کچھ ذہن نشیں اور بھی ہے
جانتا ہے کہ نشست ان کی کہیں اور بھی ہے
22
ایک دل تھا سو دیا اور کہاں سے لاؤں
جھوٹ کہئے تو میں کہہ دوں کہ نہیں اور بھی ہے
33
ناز بے جا نہ کیا کیجیئے ہم سے اتنا
اسی انداز کا اک یار حسیں اور بھی ہے
44
کہیو اس غیرت لیلیٰ سے یہ پیغام صبا
پہلوئے قیس میں اک دشت نشیں اور بھی ہے
55
میرے بلوانے کا احسان جتاؤ نہ بہت
مہرباں ایک بت پردہ نشیں اور بھی ہے
66
ان ردیفوں میں غزل کیوں نہ ہو دشوار اکبرؔ
نا تراشیدہ کوئی ایسی زمیں اور بھی ہے
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.
Loading…

