ان دنوں یار کے کچھ ذہن نشیں اور بھی ہے

Toggle stanza 1
ان دنوں یار کے کچھ ذہن نشیں اور بھی ہے
1

ان دنوں یار کے کچھ ذہن نشیں اور بھی ہے

جانتا ہے کہ نشست ان کی کہیں اور بھی ہے

2

ایک دل تھا سو دیا اور کہاں سے لاؤں

جھوٹ کہئے تو میں کہہ دوں کہ نہیں اور بھی ہے

3

ناز بے جا نہ کیا کیجیئے ہم سے اتنا

اسی انداز کا اک یار حسیں اور بھی ہے

4

کہیو اس غیرت لیلیٰ سے یہ پیغام صبا

پہلوئے قیس میں اک دشت نشیں اور بھی ہے

5

میرے بلوانے کا احسان جتاؤ نہ بہت

مہرباں ایک بت پردہ نشیں اور بھی ہے

6

ان ردیفوں میں غزل کیوں نہ ہو دشوار اکبرؔ

نا تراشیدہ کوئی ایسی زمیں اور بھی ہے

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…