جلائے جب شعلۂ تحیر تو ذہن ڈھونڈھے پناہ کس کی
Toggle stanza 1جلائے جب شعلۂ تحیر تو ذہن ڈھونڈھے پناہ کس کی
11
جلائے جب شعلۂ تحیر تو ذہن ڈھونڈھے پناہ کس کی
یہ کس کے معنی ہوئے ہیں ثابت یہ صورتیں ہیں گواہ کس کی
22
یہ چشم لیلیٰ کہاں سے آئی یہ قلب محزوں کہاں سے ابھرا
جو با خبر ہیں انہیں خبر ہے نگاہ کس کی ہے آہ کس کی
33
جمال فطرت کے لاکھ پرتو قبول پرتو کی لاکھ شکلیں
طریق عرفاں میں کیا بتاؤں یہ راہ کس کی وہ راہ کس کی
44
یہ کس کے عشوں کا سامنا ہے کہ لذت ہوش ہو گئی گم
خودی سے کچھ ہو چلا ہوں غافلؔ پڑی ہے مجھ پر نگاہ کس کی
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.
Loading…

