جلائے جب شعلۂ تحیر تو ذہن ڈھونڈھے پناہ کس کی

Toggle stanza 1
جلائے جب شعلۂ تحیر تو ذہن ڈھونڈھے پناہ کس کی
1

جلائے جب شعلۂ تحیر تو ذہن ڈھونڈھے پناہ کس کی

یہ کس کے معنی ہوئے ہیں ثابت یہ صورتیں ہیں گواہ کس کی

2

یہ چشم لیلیٰ کہاں سے آئی یہ قلب محزوں کہاں سے ابھرا

جو با خبر ہیں انہیں خبر ہے نگاہ کس کی ہے آہ کس کی

3

جمال فطرت کے لاکھ پرتو قبول پرتو کی لاکھ شکلیں

طریق عرفاں میں کیا بتاؤں یہ راہ کس کی وہ راہ کس کی

4

یہ کس کے عشوں کا سامنا ہے کہ لذت ہوش ہو گئی گم

خودی سے کچھ ہو چلا ہوں غافلؔ پڑی ہے مجھ پر نگاہ کس کی

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…