تو نے جسے بنایا اس کو بگاڑ ڈالا

Toggle stanza 1
تو نے جسے بنایا اس کو بگاڑ ڈالا
1

تو نے جسے بنایا اس کو بگاڑ ڈالا

اے چرخ میں نے اپنی عرضی کو پھاڑ ڈالا

2

برباد کیا اجل نے مجھ کو کیا یہ کہئے

روح رواں نے اپنے دامن کو جھاڑ ڈالا

3

دستار و پیرہن گم اور جیب و کیسہ خالی

تہذیب مغربی نے ہم کو چتھاڑ ڈالا

4

بنیاد دیں ہوائے دنیا نے منہدم کی

طوفان نے شجر کو جڑ سے اکھاڑ ڈالا

5

اچھا ملا نتیجہ مجھ کو مراسلت کا

قاصد کو قتل کر کے نامہ کو پھاڑ ڈالا

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…