تو نے جسے بنایا اس کو بگاڑ ڈالا
Poet: Akbar Allahabadi
Toggle stanza 1تو نے جسے بنایا اس کو بگاڑ ڈالا
11
تو نے جسے بنایا اس کو بگاڑ ڈالا
اے چرخ میں نے اپنی عرضی کو پھاڑ ڈالا
22
برباد کیا اجل نے مجھ کو کیا یہ کہئے
روح رواں نے اپنے دامن کو جھاڑ ڈالا
33
دستار و پیرہن گم اور جیب و کیسہ خالی
تہذیب مغربی نے ہم کو چتھاڑ ڈالا
44
بنیاد دیں ہوائے دنیا نے منہدم کی
طوفان نے شجر کو جڑ سے اکھاڑ ڈالا
55
اچھا ملا نتیجہ مجھ کو مراسلت کا
قاصد کو قتل کر کے نامہ کو پھاڑ ڈالا
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.
Loading…

