پروانے کہاں مرتے بچھڑتے پہنچے

Toggle stanza 1
پروانے کہاں مرتے بچھڑتے پہنچے
1

پروانے کہاں مرتے بچھڑتے پہنچے

دیوانہ صفت ہوا سے لڑتے پہنچے

2

پیاس آگ میں کود کر بجھانے والے

دھن کے پکے تھے گرتے پڑتے پہنچے

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…