پروانے کہاں مرتے بچھڑتے پہنچے
شاعر: یاس یگانہؔ چنگیزی
صنف: نظم
Toggle stanza 1پروانے کہاں مرتے بچھڑتے پہنچے
11
پروانے کہاں مرتے بچھڑتے پہنچے
دیوانہ صفت ہوا سے لڑتے پہنچے
22
پیاس آگ میں کود کر بجھانے والے
دھن کے پکے تھے گرتے پڑتے پہنچے
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

