عشق میں صبر و رضا درکار ہے

شاعر: ولیؔ دکنی

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف)

قافیہ: ا

ردیف: درکار ہے

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: غزل

Toggle stanza 1
عشق میں صبر و رضا درکار ہے
1

عشق میں صبر و رضا درکار ہے

فکر اسباب وفا درکار ہے

2

چاک کرنے جامۂ صبر و قرار

دلبر رنگیں قبا درکار ہے

3

ہر صنم تسخیر دل کیونکر سکے

دل ربائی کوں ادا درکار ہے

4

زلف کوں وا کر کہ شاہ عشق کوں

سایۂ بال ہما درکار ہے

5

رکھ قدم مجھ دیدۂ خوں بار پر

گر تجھے رنگ حنا درکار ہے

6

دیکھ اس کی چشم شہلا کوں اگر

نرگس باغ حیا درکار ہے

7

عزم اس کے وصل کا ہے اے ولیؔ

لیکن امداد خدا درکار ہے

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…