جسے عشق کا تیر کاری لگے
Toggle stanza 1جسے عشق کا تیر کاری لگے
11
جسے عشق کا تیر کاری لگے
اسے زندگی کیوں نہ بھاری لگے
22
نہ چھوڑے محبت دم مرگ تک
جسے یار جانی سوں یاری لگے
33
نہ ہووے اسے جگ میں ہرگز قرار
جسے عشق کی بے قراری لگے
44
ہر اک وقت مجھ عاشق پاک کوں
پیارے تری بات پیاری لگے
55
ولیؔ کوں کہے تو اگر یک بچن
رقیباں کے دل میں کٹاری لگے
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

