جسے عشق کا تیر کاری لگے

Toggle stanza 1
جسے عشق کا تیر کاری لگے
1

جسے عشق کا تیر کاری لگے

اسے زندگی کیوں نہ بھاری لگے

2

نہ چھوڑے محبت دم مرگ تک

جسے یار جانی سوں یاری لگے

3

نہ ہووے اسے جگ میں ہرگز قرار

جسے عشق کی بے قراری لگے

4

ہر اک وقت مجھ عاشق پاک کوں

پیارے تری بات پیاری لگے

5

ولیؔ کوں کہے تو اگر یک بچن

رقیباں کے دل میں کٹاری لگے

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…