ہوا ظاہر خط روئے نگار آہستہ آہستہ
شاعر: ولیؔ دکنی
Toggle stanza 1ہوا ظاہر خط روئے نگار آہستہ آہستہ
11
ہوا ظاہر خط روئے نگار آہستہ آہستہ
کہ جیوں گلشن میں آتی ہے بہار آہستہ آہستہ
22
کیا ہوں رفتہ رفتہ رام اس کی چشم وحشی کوں
کہ جیوں آہو کوں کرتے ہیں شکار آہستہ آہستہ
33
جو اپنے تن کوں مثل جوئبار اول کیا پانی
ہوا اس سرو قد سوں ہم کنار آہستہ آہستہ
44
برنگ قطرۂ سیماب میرے دل کی جنبش سوں
ہوا ہے دل صنم کا بے قرار آہستہ آہستہ
55
اسے کہنا بجا ہے عشق کے گل زار کا بلبل
جو گل رویاں میں پایا اعتبار آہستہ آہستہ
66
مرا دل اشک ہو پہنچا ہے کوچے میں سریجن کے
گیا کعبے میں یہ کشتی سوار آہستہ آہستہ
77
ولیؔ مت حاسداں کی بات سوں دل کوں مکدر کر
کہ آخر دل سوں جاوے گا غبار آہستہ آہستہ
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

