ہوا ظاہر خط روئے نگار آہستہ آہستہ

Toggle stanza 1
ہوا ظاہر خط روئے نگار آہستہ آہستہ
1

ہوا ظاہر خط روئے نگار آہستہ آہستہ

کہ جیوں گلشن میں آتی ہے بہار آہستہ آہستہ

2

کیا ہوں رفتہ رفتہ رام اس کی چشم وحشی کوں

کہ جیوں آہو کوں کرتے ہیں شکار آہستہ آہستہ

3

جو اپنے تن کوں مثل جوئبار اول کیا پانی

ہوا اس سرو قد سوں ہم کنار آہستہ آہستہ

4

برنگ قطرۂ سیماب میرے دل کی جنبش سوں

ہوا ہے دل صنم کا بے قرار آہستہ آہستہ

5

اسے کہنا بجا ہے عشق کے گل زار کا بلبل

جو گل رویاں میں پایا اعتبار آہستہ آہستہ

6

مرا دل اشک ہو پہنچا ہے کوچے میں سریجن کے

گیا کعبے میں یہ کشتی سوار آہستہ آہستہ

7

ولیؔ مت حاسداں کی بات سوں دل کوں مکدر کر

کہ آخر دل سوں جاوے گا غبار آہستہ آہستہ

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…