کوچۂ یار عین کاسی ہے
Toggle stanza 1کوچۂ یار عین کاسی ہے
11
کوچۂ یار عین کاسی ہے
جوگئی دل وہاں کا باسی ہے
22
پی کے بیراگ کی اداسی سوں
دل پہ میرے سدا اداسی ہے
33
اے صنم تجھ جبیں اپر یہ خال
ہندوی ہر دوار باسی ہے
44
زلف تیری ہے موج جمنا کی
تل نزک اس کے جیوں سناسی ہے
55
گھر ترا ہے یہ رشک دیول چیں
اس میں مدت سوں دل اپاسی ہے
66
یہ سیہ زلف تجھ زنخداں پر
ناگنی جیوں کنوے پہ پیاسی ہے
77
طاس خورشید غرق ہے جب سوں
بر میں تیرے لباس تاسی ہے
88
جس کی گفتار میں نہیں ہے مزا
سخن اس کا طعام باسی ہے
99
اے ولیؔ جو لباس تن پہ رکھا
عاشقاں کے نزک لباسی ہے
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

