صحبت غیر موں جایا نہ کرو

Toggle stanza 1
صحبت غیر موں جایا نہ کرو
1

صحبت غیر موں جایا نہ کرو

درد منداں کوں کڑھایا نہ کرو

2

حق پرستی کا اگر دعویٰ ہے

بے گناہاں کوں ستایا نہ کرو

3

اپنی خوبی کے اگر طالب ہو

اپنے طالب کوں جلایا نہ کرو

4

ہے اگر خاطر عشاق عزیز

غیر کوں درس دکھایا نہ کرو

5

مجھ کو ترشی کا ہے پرہیز صنم

چین ابرو کوں دکھایا نہ کرو

6

دل کوں ہوتی ہے سجن، بیتابی

زلف کوں ہاتھ لگایا نہ کرو

7

نگہ تلخ سوں اپنی ظالم

زہر کا جام پلایا نہ کرو

8

ہم کوں برداشت نہیں غصے کی

بے سبب غصے میں آیا نہ کرو

9

پاک بازاں میں ہے مشہور ولیؔ

اس سوں چہرے کوں چھپایا نہ کرو

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…