صحبت غیر موں جایا نہ کرو
Toggle stanza 1صحبت غیر موں جایا نہ کرو
11
صحبت غیر موں جایا نہ کرو
درد منداں کوں کڑھایا نہ کرو
22
حق پرستی کا اگر دعویٰ ہے
بے گناہاں کوں ستایا نہ کرو
33
اپنی خوبی کے اگر طالب ہو
اپنے طالب کوں جلایا نہ کرو
44
ہے اگر خاطر عشاق عزیز
غیر کوں درس دکھایا نہ کرو
55
مجھ کو ترشی کا ہے پرہیز صنم
چین ابرو کوں دکھایا نہ کرو
66
دل کوں ہوتی ہے سجن، بیتابی
زلف کوں ہاتھ لگایا نہ کرو
77
نگہ تلخ سوں اپنی ظالم
زہر کا جام پلایا نہ کرو
88
ہم کوں برداشت نہیں غصے کی
بے سبب غصے میں آیا نہ کرو
99
پاک بازاں میں ہے مشہور ولیؔ
اس سوں چہرے کوں چھپایا نہ کرو
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

