شیخ محمد ابراہیم ذوقؔ

شاعر

شیخ محمد ابراہیم ذوقؔ

1790 — 1854عیسوی

شیخ محمد ابراہیم ذوقؔ انیسویں صدی کے دہلی کے ممتاز شاعر، مغلیہ دربار کے ملک الشعرا اور بہادر شاہ ظفرؔ کے استاد تھے۔ ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے، کم عمری ہی میں محاورۂ زبان پر قدرت کے باعث نمایاں ہوئے، اور شاہ نصیرؔ سے اصلاح لینے کے بعد جلد اپنی الگ استادانہ حیثیت قائم کر لی۔

ذوقؔ نے غزل اور قصیدے میں خاص کمال دکھایا۔ ان کی شاعری زبان کی صفائی، محاورے کی برجستگی، اخلاقی تجربے اور دہلی کے محاورے سے گہرے ربط کے لیے معروف ہے۔ بادشاہ کے استاد کی حیثیت سے وہ شہر کی ادبی زندگی کے مرکز میں رہے۔ غالبؔ کے ساتھ ان کی مشہور رقابت بھی آخری مغلیہ دور میں نمایاں رہی۔

1857ء کے ہنگاموں میں ذوقؔ کے کلام کا بڑا حصہ ضائع ہو گیا، لیکن موجودہ دیوان ان کی فنی پختگی اور یاد رہ جانے والے اسلوب کا ثبوت ہے۔ ان کے متعدد شاگردوں اور زبان کی تہذیب میں ان کے کردار نے کلاسیکی اردو شاعری پر دیرپا اثر چھوڑا۔

کلام

صنف

اصناف

وزن

اوزان