قہر ہے موت ہے قضا ہے عشق
شاعر: مومن خان مومنؔ
Toggle stanza 1قہر ہے موت ہے قضا ہے عشق
قہر ہے موت ہے قضا ہے عشق
سچ تو یوں ہے بری بلا ہے عشق
اثر غم ذرا بتا دینا
وہ بہت پوچھتے ہیں کیا ہے عشق
آفت جاں ہے کوئی پردہ نشیں
کہ مرے دل میں آ چھپا ہے عشق
بوالہوس اور لاف جانبازی
کھیل کیسا سمجھ لیا ہے عشق
وصل میں احتمال شادی مرگ
چارہ گر درد بے دوا ہے عشق
سوجھے کیونکر فریب دل داری
دشمن آشنا نما ہے عشق
کس ملاحت سرشت کو چاہا
تلخ کامی پہ بامزا ہے عشق
ہم کو ترجیح تم پہ ہے یعنی
دل ربا حسن و جاں ربا ہے عشق
دیکھ حالت مری کہیں کافر
نام دوزخ کا کیوں دھرا ہے عشق
دیکھیے کس جگہ ڈبو دے گا
میری کشتی کا ناخدا ہے عشق
اب تو دل عشق کا مزا چکھا
ہم نہ کہتے تھے کیوں برا ہے عشق
آپ مجھ سے نباہیں گے سچ ہے
باوفا حسن و بے وفا ہے عشق
میں وہ مجنون وحشت آرا ہوں
نام سے میرے بھاگتا ہے عشق
قیس و فرہاد و وامق و مومنؔ
مر گئے سب ہی کیا وبا ہے عشق
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
درد ہی خود ہے خود دوا ہے عشق
شیخ کیا جانے تو کہ کیا ہے عشق
میر تقی میرغزلیاتدیوانِ اولدرد ہی خود ہے خود دوا ہے عشق
کیا حقیقت کہوں کہ کیا ہے عشق
حق شناسوں کے ہاں خدا ہے عشق
میر تقی میرغزلیاتدیوانِ سومکیا حقیقت کہوں کہ کیا ہے عشق
کیا کہوں تم سے میں کہ کیا ہے عشق
جان کا روگ ہے بلا ہے عشق
میر تقی میرغزلیاتدیوانِ دومکیا کہوں تم سے میں کہ کیا ہے عشق
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

