ہوئی تاثیر آہ و زاری کی
Toggle stanza 1ہوئی تاثیر آہ و زاری کی
11
ہوئی تاثیر آہ و زاری کی
رہ گئی بات بے قراری کی
22
شکوۂ دشمنی کریں کس سے
واں شکایت ہے دوست داری کی
33
مبتلائے شب فراق ہوئے
ضد سے ہم تیرہ روزگاری کی
44
یاد آئی جو گرمجوشیٔ یار
دیدۂ تر نے شعلہ باری کی
55
کیوں نہ ڈر جاؤں دیکھ کر وہ زلف
ہے شب ہجر کی سی تاریکی
66
یاس دیکھو کہ غیر سے کہہ دی
بات اپنی امیدواری کی
77
بس کہ ہے یار کی کمر کا خیال
شعر کی سوجھتی ہے باریکی
88
کر دے روز جزا شب دیجور
ظلمت اپنی سیاہ کاری کی
99
تیرے ابرو کی یاد میں ہم نے
ناخن غم سے دل فگاری کی
1010
قتل دشمن کا ہے ارادہ اسے
یہ سزا اپنی جاں نثاری کی
1111
کیا مسلماں ہوئے کہ اے مومنؔ
حاصل اس بت سے شرمساری کی
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

