سودا تھا بلائے جوش پر رات

شاعر: مومن خان مومنؔ

وزن: مفعول مفاعلن فعولن (ہزج مسدس اخرب مقبوض محذوف)

قافیہ: ر

ردیف: رات

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: غزل

Toggle stanza 1
سودا تھا بلائے جوش پر رات
1

سودا تھا بلائے جوش پر رات

بستر پر بچھائے نشتر رات

2

بگڑے تھے یہاں وہ آن کر رات

بے طور بنی تھی جان پر رات

3

ہم تا سحر آپ میں نہیں تھے

کیا جانے رہے وہ کس کے گھر رات

4

افسانہ سمجھ کے سو گئے وہ

کام آئی فغان بے اثر رات

5

آئینے میں ہو نہ موم جادو

سوتے نہیں اب وہ تا سحر رات

6

تارے آنکھیں جھپک رہے تھے

تھا بام پہ کون جلوہ گر رات

7

اندھیرا پڑا زمانے میں ہائے

نے دن کو ہے مہر نے قمر رات

8

اس لیل و نہار غم نے مارا

ہے روز سے سیاہ تر رات

9

کیا پوچھو ہو منکر و نکیر آہ

بگڑے جو وہ طعن غیر پر رات

10

یہ بات بڑھی کہ مر گئے ہم

موت آئی تھی قصہ مختصر رات

11

اس گھر میں ہے عیش خلد مومنؔ

کیا جانے کہاں ہے دن کدھر رات

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…