سودا تھا بلائے جوش پر رات
شاعر: مومن خان مومنؔ
Toggle stanza 1سودا تھا بلائے جوش پر رات
11
سودا تھا بلائے جوش پر رات
بستر پر بچھائے نشتر رات
22
بگڑے تھے یہاں وہ آن کر رات
بے طور بنی تھی جان پر رات
33
ہم تا سحر آپ میں نہیں تھے
کیا جانے رہے وہ کس کے گھر رات
44
افسانہ سمجھ کے سو گئے وہ
کام آئی فغان بے اثر رات
55
آئینے میں ہو نہ موم جادو
سوتے نہیں اب وہ تا سحر رات
66
تارے آنکھیں جھپک رہے تھے
تھا بام پہ کون جلوہ گر رات
77
اندھیرا پڑا زمانے میں ہائے
نے دن کو ہے مہر نے قمر رات
88
اس لیل و نہار غم نے مارا
ہے روز سے سیاہ تر رات
99
کیا پوچھو ہو منکر و نکیر آہ
بگڑے جو وہ طعن غیر پر رات
1010
یہ بات بڑھی کہ مر گئے ہم
موت آئی تھی قصہ مختصر رات
1111
اس گھر میں ہے عیش خلد مومنؔ
کیا جانے کہاں ہے دن کدھر رات
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

