کرتا ہوں تیرے ظلم سے ہر بار الغیاث

Toggle stanza 1
کرتا ہوں تیرے ظلم سے ہر بار الغیاث
1

کرتا ہوں تیرے ظلم سے ہر بار الغیاث

یک بار تیرے دل میں نہیں کار الغیاث

2

تیری نگہ کو دیکھ کے گردش میں آسمان

کرتا پھرے ہے شعبدہ دوار الغیاث

3

مغرور حسن کا ہے تجھے یہ کہاں خبر

یعنی کہ کون ہے پس دیوار الغیاث

4

سوداؔ میں کہتا ہوں کہ یہ پرہیز عشق سے

رسوا ہے کیوں تو کوچہ و بازار الغیاث

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…