کرتا ہوں تیرے ظلم سے ہر بار الغیاث
Toggle stanza 1کرتا ہوں تیرے ظلم سے ہر بار الغیاث
11
کرتا ہوں تیرے ظلم سے ہر بار الغیاث
یک بار تیرے دل میں نہیں کار الغیاث
22
تیری نگہ کو دیکھ کے گردش میں آسمان
کرتا پھرے ہے شعبدہ دوار الغیاث
33
مغرور حسن کا ہے تجھے یہ کہاں خبر
یعنی کہ کون ہے پس دیوار الغیاث
44
سوداؔ میں کہتا ہوں کہ یہ پرہیز عشق سے
رسوا ہے کیوں تو کوچہ و بازار الغیاث
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

