تضمین در مخمس (2)

بند 1
Toggle stanza 1
بیخودانہ ہیں کئی حرف زباں پر کر گوش
1

بیخودانہ ہیں کئی حرف زباں پر کر گوش

2

آج کہتا ہوں کہ ہے خم کدۂ دل میں جوش

3

پاے رفتن تو نہ تھے لیک مجھے تھا کچھ ہوش

4

سرخوش از کوے خرابات گذر کردم دوش

5

بہ طلبگاری ترسا بچۂ بادہ فروش

بند 2
Toggle stanza 2
ہوش و صبر و خرد و دین گئے یہ سارے
6

ہوش و صبر و خرد و دین گئے یہ سارے

7

میں تھا سو مجھ میں بھی کچھ تھا نہ ستم کے مارے

8

بعد یک چشم زدن پھر جو میں دیکھا بارے

9

پیشم آمد بہ سر کوچہ پری رخسارے

10

کافرے عشوہ گرے زلف چو زنار بدوش

بند 3
Toggle stanza 3
ایک ساعت تو رہا محو نشست و برخاست
11

ایک ساعت تو رہا محو نشست و برخاست

12

بارے پھر ٹھہر گیا دل بھی مرا بے کم و کاست

13

درمیاں جس گھڑی آئے سخن راست بہ راست

14

گفتم ایں کوچہ چہ کویست و ترا خانہ کجاست

15

اے مہ نو خم ابروے ترا حلقہ بگوش

بند 4
Toggle stanza 4
تار اس دشمن ایمان کی زلفوں کے کمند
16

تار اس دشمن ایمان کی زلفوں کے کمند

17

پارسائی کو میں صد جان سے واں پایا بند

18

آنکھیں سختی سے دکھا مجھ کو بہ آواز بلند

19

گفت تسبیح بخاک افگن و زنار ببند

20

سنگ بر سینۂ تقویٰ زن و پیمانہ بنوش

بند 5
Toggle stanza 5
رہیو ہشیار کہ ہے ضعف سے بیگانہ طلب
21

رہیو ہشیار کہ ہے ضعف سے بیگانہ طلب

22

قوت پا ہی تلک رکھتی ہے یارانہ طلب

23

جاکے کر پیر مغاں سے کوئی خم خانہ طلب

24

توبہ یک سو بنہ و ساغر مستانہ طلب

25

خرقہ بیروں فگن و کسوت رندانہ بپوش

بند 6
Toggle stanza 6
بسکہ نقاد ہیں یاں کھوٹے ہیں سب تیرے کھرے
26

بسکہ نقاد ہیں یاں کھوٹے ہیں سب تیرے کھرے

27

قابل خدمت مستاں نہیں تو رہیو پرے

28

پہلے یہ باتیں ہیں ان پر تو عمل کرلے ارے

29

بعد ازاں سوے من آ تا بتو گویم خبرے

30

راہ بنمایم اگر بر سخنم داری گوش

بند 7
Toggle stanza 7
مجھ کو بھڑکا کے چلا واں سے وہ کافر سرکش
31

مجھ کو بھڑکا کے چلا واں سے وہ کافر سرکش

32

پاؤں سے لے کے گئی سر تئیں جلتی آتش

33

ہاتھ سے جاتا ہی تھا گو تھی مجھے حالت غش

34

من برافتادۂ بیہودہ دویدم بہ پیَش

35

تا رسیدم بہ مقامے کہ نہ دیں ماند و نہ ہوش

بند 8
Toggle stanza 8
جاے بے خدشۂ غیرے کہ نہ تھا غیر نمود
36

جاے بے خدشۂ غیرے کہ نہ تھا غیر نمود

37

خط باطل سے لکھا دیکھا ہے واں صفحۂ بود

38

تو بھی واں ہو تو یہی منھ سے نکل جاوے زود

39

محو گشت از ورق کون و مکاں حرف وجود

40

نہ پری ماند و نہ آدم نہ طیور و نہ وحوش

بند 9
Toggle stanza 9
بے خود و بے خبر و مست مئے صاف الست
41

بے خود و بے خبر و مست مئے صاف الست

42

آتش مے سے برافروختہ کچھ بادہ پرست

43

یک دگر پاؤں کی لغزش کے سبب دست بدست

44

دیدم از دور گروہے ہمہ دیوانہ و مست

45

از تف بادۂ شوق آمدہ در جوش و خروش

بند 10
Toggle stanza 10
گرچہ ظاہر تھا خراب ان کا ولے سب معمور
46

گرچہ ظاہر تھا خراب ان کا ولے سب معمور

47

کاسۂ سر سے ہوئے پھرتے تھے سارے فغفور

48

بے لباس طرب و جامۂ اندوہ سے عور

49

بے دف و مطرب و ساقی ہمہ در عیش و سرور

50

بے مے و جام و صراحی ہمہ در نوشانوش

بند 11
Toggle stanza 11
نام و ناموس کا دفتر تھا سب ان کا برہم
51

نام و ناموس کا دفتر تھا سب ان کا برہم

52

دیکھ کر پہلے کیا میں نے تامل یک دم

53

پھر جو دیکھا تو مجھے بد کہے گا کیا عالم

54

چوں سر رشتۂ ناموس برفت از دستم

55

خواستم تا خبرے پرسم ازو گفت خموش

بند 12
Toggle stanza 12
عقل رکھتا ہے تو ٹک رہیو ادب کا پابند
56

عقل رکھتا ہے تو ٹک رہیو ادب کا پابند

57

یاں فراغت ہے دو عالم کی ہر اک جام میں بند

58

یہ وہ جا ہے کہ نہ فردوس ہو اس کے مانند

59

ایں خرابات مغان است و درو مستانند

60

از دم صبح ازل تا بہ قیامت مدہوش

بند 13
Toggle stanza 13
میرؔ ان مستوں میں کوئی نہیں پابستۂ زیست
61

میرؔ ان مستوں میں کوئی نہیں پابستۂ زیست

62

کیونکہ یہ زیست بہت ہووے تو دہ روز کہ بیست

63

جتنے یہ ہست نظر آتے ہیں اب سب ہیں نیست

64

گر ترا نیز بہ ایں فرقہ سر یک رنگی ست

65

دین و دنیا بہ یکے جرعہ چو عصمت بہ فروش

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…