ٹھوکر بھی نہ ماریں گے اگر خود سر ہے

شاعر: میر ببر علی انیسؔ

وزن: رباعی

قافیہ: ر

ردیف: ہے

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
ٹھوکر بھی نہ ماریں گے اگر خود سر ہے
1

ٹھوکر بھی نہ ماریں گے اگر خود سر ہے

زردار کو بھی فروتنی بہتر ہے

2

ہے میوۂ نخل قد انساں تسلیم

جھکتی ہے وہی شاخ جو بار آور ہے

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…