اشکوں میں نہاؤ تو جگر ٹھنڈے ہوں

شاعر: میر ببر علی انیسؔ

وزن: رباعی

قافیہ: ر

ردیف: ٹھنڈے ہوں

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
اشکوں میں نہاؤ تو جگر ٹھنڈے ہوں
1

اشکوں میں نہاؤ تو جگر ٹھنڈے ہوں

بھیگے جو مژہ دیدۂ تر ٹھنڈے ہوں

2

یوں سینہ و قلب سرد ہو جائیں گے

خس خانے میں جیسے بام و در ٹھنڈے ہوں

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…