انداز سخن تم جو ہمارے سمجھو

شاعر: میر ببر علی انیسؔ

وزن: رباعی

قافیہ: ارے

ردیف: سمجھو

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
انداز سخن تم جو ہمارے سمجھو
1

انداز سخن تم جو ہمارے سمجھو

جو لطف کلام ہیں وہ سارے سمجھو

2

آواز گرفتہ گو ہے اس ذاکر کی

پہروں رؤو اگر اشارے سمجھو

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…