چھری کا تیر کا تلوار کا تو گھاؤ بھرا
Toggle stanza 1چھری کا تیر کا تلوار کا تو گھاؤ بھرا
11
چھری کا تیر کا تلوار کا تو گھاؤ بھرا
لگا جو زخم زباں کا رہا ہمیشہ ہرا
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

