روش حسن مراعات چلی جاتی ہے

Toggle stanza 1
روش حسن مراعات چلی جاتی ہے
1

روش حسن مراعات چلی جاتی ہے

ہم سے اور ان سے وہی بات چلی جاتی ہے

2

اس جفا جو سے بایمائے تمنا اب تک

ہوس لطف و عنایات چلی جاتی ہے

3

مل ہی جاتے ہیں پشیمانئ غم کے اسباب

شوق حرماں کی مدارات چلی جاتی ہے

4

ہم سے ہر چند وہ ظاہر میں خفا ہیں لیکن

کوشش پرسش حالات چلی جاتی ہے

5

دن کو ہم ان سے بگڑتے ہیں وہ شب کو ہم سے

رسم پابندئ اوقات چلی جاتی ہے

6

اس ستم گر کو ستم گر نہیں کہتے بنتا

سعئ تاویل خیالات چلی جاتی ہے

7

نگہ یار سے پا لیتے ہیں دل کی باتیں

شہرت کشف و کرامات چلی جاتی ہے

8

حیرت حسن نے مجبور کیا ہے حسرتؔ

وصل جاناں کی یوں ہی رات چلی جاتی ہے

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…