روش حسن مراعات چلی جاتی ہے
Toggle stanza 1روش حسن مراعات چلی جاتی ہے
11
روش حسن مراعات چلی جاتی ہے
ہم سے اور ان سے وہی بات چلی جاتی ہے
22
اس جفا جو سے بایمائے تمنا اب تک
ہوس لطف و عنایات چلی جاتی ہے
33
مل ہی جاتے ہیں پشیمانئ غم کے اسباب
شوق حرماں کی مدارات چلی جاتی ہے
44
ہم سے ہر چند وہ ظاہر میں خفا ہیں لیکن
کوشش پرسش حالات چلی جاتی ہے
55
دن کو ہم ان سے بگڑتے ہیں وہ شب کو ہم سے
رسم پابندئ اوقات چلی جاتی ہے
66
اس ستم گر کو ستم گر نہیں کہتے بنتا
سعئ تاویل خیالات چلی جاتی ہے
77
نگہ یار سے پا لیتے ہیں دل کی باتیں
شہرت کشف و کرامات چلی جاتی ہے
88
حیرت حسن نے مجبور کیا ہے حسرتؔ
وصل جاناں کی یوں ہی رات چلی جاتی ہے
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

