روگ دل کو لگا گئیں آنکھیں
شاعر: حسرتؔ موہانی
Toggle stanza 1روگ دل کو لگا گئیں آنکھیں
11
روگ دل کو لگا گئیں آنکھیں
اک تماشا دکھا گئیں آنکھیں
22
مل کے ان کی نگاہ جادو سے
دل کو حیراں بنا گئیں آنکھیں
33
مجھ کو دکھلا کے راہ کوچۂ یار
کس غضب میں پھنسا گئیں آنکھیں
44
اس نے دیکھا تھا کس نظر سے مجھے
دل میں گویا سما گئیں آنکھیں
55
محفل یار میں بہ ذوق نگاہ
لطف کیا کیا اٹھا گئیں آنکھیں
66
حال سنتے وہ کیا مرا حسرتؔ
وہ تو کہئے سنا گئیں آنکھیں
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

