روگ دل کو لگا گئیں آنکھیں

Toggle stanza 1
روگ دل کو لگا گئیں آنکھیں
1

روگ دل کو لگا گئیں آنکھیں

اک تماشا دکھا گئیں آنکھیں

2

مل کے ان کی نگاہ جادو سے

دل کو حیراں بنا گئیں آنکھیں

3

مجھ کو دکھلا کے راہ کوچۂ یار

کس غضب میں پھنسا گئیں آنکھیں

4

اس نے دیکھا تھا کس نظر سے مجھے

دل میں گویا سما گئیں آنکھیں

5

محفل یار میں بہ ذوق نگاہ

لطف کیا کیا اٹھا گئیں آنکھیں

6

حال سنتے وہ کیا مرا حسرتؔ

وہ تو کہئے سنا گئیں آنکھیں

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…