توڑ کر عہد کرم نا آشنا ہو جائیے
Toggle stanza 1توڑ کر عہد کرم نا آشنا ہو جائیے
توڑ کر عہد کرم نا آشنا ہو جائیے
بندہ پرور جائیے اچھا خفا ہو جائیے
میرے عذر جرم پر مطلق نہ کیجے التفات
بلکہ پہلے سے بھی بڑھ کر کج ادا ہو جائیے
خاطر محروم کو کر دیجئے محو الم
درپئے ایذائے جان مبتلا ہو جائیے
راہ میں ملیے کبھی مجھ سے تو از راہ ستم
ہونٹ اپنا کاٹ کر فوراً جدا ہو جائیے
گر نگاہ شوق کو محو تماشا دیکھیے
قہر کی نظروں سے مصروف سزا ہو جائیے
میری تحریر ندامت کا نہ دیجے کچھ جواب
دیکھ لیجے اور تغافل آشنا ہو جائیے
مجھ سے تنہائی میں گر ملیے تو دیجے گالیاں
اور بزم غیر میں جان حیا ہو جائیے
ہاں یہی میری وفائے بے اثر کی ہے سزا
آپ کچھ اس سے بھی بڑھ کر پر جفا ہو جائیے
جی میں آتا ہے کہ اس شوخ تغافل کیش سے
اب نہ ملیے پھر کبھی اور بے وفا ہو جائیے
کاوش درد جگر کی لذتوں کو بھول کر
مائل آرام و مشتاق شفا ہو جائیے
ایک بھی ارماں نہ رہ جائے دل مایوس میں
یعنی آخر بے نیاز مدعا ہو جائیے
بھول کر بھی اس ستم پرور کی پھر آئے نہ یاد
اس قدر بیگانۂ عہد وفا ہو جائیے
ہائے ری بے اختیاری یہ تو سب کچھ ہو مگر
اس سراپا ناز سے کیونکر خفا ہو جائیے
چاہتا ہے مجھ کو تو بھولے نہ بھولوں میں تجھے
تیرے اس طرز تغافل کے فدا ہو جائیے
کشمکش ہائے الم سے اب یہ حسرتؔ جی میں ہے
چھٹ کے ان جھگڑوں سے مہمان قضا ہو جائیے
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

