ان کو رسوا مجھے خراب نہ کر

Toggle stanza 1
ان کو رسوا مجھے خراب نہ کر
1

ان کو رسوا مجھے خراب نہ کر

اے دل اتنا بھی اضطراب نہ کر

2

آمد یار کی امید نہ چھوڑ

دیکھ اے آنکھ میل خواب نہ کر

3

مل ہی رہتی ہے مے پرست کو مے

فکر نایابئ شراب نہ کر

4

ناصحا ہم کریں گے شرح جنوں

دل دیوانہ سے خطاب نہ کر

5

شوق یاروں کا بے شمار نہیں

ستم اے دوست بے حساب نہ کر

6

دل کو مست خیال یار بنا

لب کو آلودۂ شراب نہ کر

7

رکھ بہرحال شغل مے حسرتؔ

اس میں پروائے شیخ و شاب نہ کر

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…