ان کو رسوا مجھے خراب نہ کر
Toggle stanza 1ان کو رسوا مجھے خراب نہ کر
11
ان کو رسوا مجھے خراب نہ کر
اے دل اتنا بھی اضطراب نہ کر
22
آمد یار کی امید نہ چھوڑ
دیکھ اے آنکھ میل خواب نہ کر
33
مل ہی رہتی ہے مے پرست کو مے
فکر نایابئ شراب نہ کر
44
ناصحا ہم کریں گے شرح جنوں
دل دیوانہ سے خطاب نہ کر
55
شوق یاروں کا بے شمار نہیں
ستم اے دوست بے حساب نہ کر
66
دل کو مست خیال یار بنا
لب کو آلودۂ شراب نہ کر
77
رکھ بہرحال شغل مے حسرتؔ
اس میں پروائے شیخ و شاب نہ کر
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

